Showing posts with label nazm. Show all posts
Showing posts with label nazm. Show all posts

phir se : poet zain shakeel

پھر سے

لو ہاں یاد تمہاری آگئی
اور سارے کی ساری آگئی
پہلے جگ کے دُکھ کیا کم تھے
اب سَر پر یہ منڈلائے گی
پورے زور سے چلائے گی
دھاڑیں مار کے روئے گی اب
دل کا دشت بھگوئے گی اب
پہلے ہی بے چین بہت تھا
بے کل ساری رین بہت تھا
تھوڑے سے آنسو باقی ہیں
یہ بھی چھین کے لے جائے گی
خود غرضی کی ماری آگئی
لو ہاں یاد تمہاری آگئی
پھر سے یاد تمہاری آگئی

زین شکیل


hum se rooth gya : poet zain shakeel

ہم سے روٹھ گیا

سانول بھولا بھالا مٹھڑا 
ہم سے روٹھ گیا
پریت اَوَلڑی ظلم نہ چھوڑے
من میں آگ لگائے
ہر لمحہ تڑپائے بیرن سانسوں کو سلگائے
جیون روتا جائے.....
بھول گئی معصوم سی کوئل کومل تِیوَر سُر
رو رو بین کرے اور دیکھے
اُجڑا اُجڑا گھر
کون سِتم زاد آیا 
گھر کوئل کا لوٹ گیا
سانول بھولا بھالا مٹھڑا 
ہم سے روٹھ گیا

زین شکیل


sachay suchal saien : poet zain shakeel

سچے، سچل سائیِں

سُن ڈھولے، سُن کرمانوالے 
سوہنے سچل سائیں
اپنا آپ دکھائِیں وے سائِیں
کبھی ہم سے دور نہ جائِیں
انجانے میں لگ جاتے ہیں دل کو روگ اَوَلڑے
سکھ کا مینہ برسا، اب کر بھاری بختوں کے پلڑے
ہم نادان مصیبت مارے
اپنے آپ سے تنگ
کِت جاویں؟ کس کو بتلاویں؟
سکھ کی ہم سے جنگ۔۔۔
ایسے گھور اندھیرے میں اب سُکھ کا دیپ جلائِیں!
سینے ہمیں لگائِیں!
وے سائیں کبھی ہم سے دور نہ جائِیں!
سچے، سچل سائیِں!

زین شکیل


khat : poet zain shakeel


خط

سلام عرض ہے جنابِ من ! 
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر،
 میں ٹھیک ہوں میں خیریت سے ہوں 
اب آپ کی بھی خیریت کا خط ملے تو جان پاؤں آپ ٹھیک ہیں، مزے میں ہیں
یہ جانتے ہوئے کہ خیریت کا خط کبھی نہیں لکھیں گے آپ !
اور جانتے ہوئے کہ آپ خیریت سے ہیں، مزے میں ہیں
مگر میں پھر بھی منتظر ہوں اور منتظر رہوں گا جانے کب تلک!
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر،
میں مضطرب نہیں، میں غم زدہ نہیں ، یہ بے کلی مجھے ستا نہیں رہی
یہ بے بسی بھی میرے پاس آ نہیں رہی
طبیعت اب بڑی ہی پر سکون ہے، 
رگوں میں خون کی جگہ قرار دوڑتا ہے اب
مجھے تو کوئی رات یاد ہی نہیں
وہ یاد ہے ناں آپ کو کہ جب اداس ہو کے میرا نام کتنی بار لے کے مجھ سے آپ پوچھتے تھے کیا کرو گے میرے بن؟
اگر تمہیں ملوں نہیں؟ 
اگر تمہیں دِکھوں نہیں؟
تو دل کی بات کس کے پاس جا کے تم سناؤ گے؟ 
مری طرح سے کون نام لے گا اس طرح ؟
مجھے جو دل کی ساری باتیں یاد تھیں حرف حرف
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر
مجھے تو اب وہ دل کی کوئی بات یاد ہی نہیں!
جنابِ من! عزیزِ جاں!
گلی میں چلتے چلتے کل ، نہ جانے کس خیال میں چلا گیا تھا دور تک
بڑا حسیں خیال تھا! 
حقیقتاً فراق ہے، خیال میں وصال تھا مگر وہ باکمال تھا
میں اس قدر کسی دھیان میں مگن ہوا کہ راستوں سے بے خبر بڑی ہی دور تک چلا
بڑی ہی دیر تک چلا کہ پھر حواس کی جو بے شمار ٹھوکریں لگیں تو گر پڑا
بڑی بُری طرح گرا 
گلی بھی سوچتی تو ہو گی کیا عجیب شخص ہے
مگر خیال میں وہ آپ تو نہیں تھے اے جنابِ من!
میں جھوٹ بولتا نہیں مگر
کبھی کبھی۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں مجھ کو خط نہیں لکھیں گے آپ 
پھر بھی جانے کس لیے یہ لکھ رہاہوں آپ کو
میں یہ بھی جانتا ہوں میرا خط کبھی نہیں ملے گا آپ کو 
میں آپ کو کبھی یہ بھیج پاؤں گا نہیں 
کہ میں تو جھوٹ بولتا نہیں تو پھر یہ خط بھی کیوں؟؟؟
جنابِ من! عزیزِ من!
سلامتی ، دعائیں ۔۔۔
والسلام

زین شکیل


aor kya aalam e waraftagi ho : poet zain shakeel

اور کیا عالمِ وارفتگی ہو؟
ہم غمِ دنیا سے گھبرائے ہوئے
جب بھی روتے ہیں، تمہیں ڈھونڈتے ہیں

زین شکیل

aor kya aalam e waraftagi ho?
hum gham e dunia se ghabraye huye
jab bhi rotay hain, tumhain dhoondtay hain!

Zain Shakeel


waqt bhi kya ajeeb shay hai naa : poet zain shakeel

وقت بھی کیا عجیب شے ہے ناں

وقت بھی کیا عجیب شے ہے ناں
مانتا ہی نہیں روایت کو
شدتوں کو زوال آتا ہے
لوگ بھی ایک سے نہیں رہتے
بات گر اک جگہ سے نکلے تو
وہ بھی چہرے بدلتی رہتی ہے
زلف کالی گھنی، سنہری ہو
اس میں چاندی اُتر ہی آتی ہے
لوگ جو پیار کرنے والے ہوں
ان کا شیرینیوں بھرا لہجہ
رفتہ رفتہ بدلتا جاتا ہے
رنگ رُخ کا پگھلتا جاتا ہے
اور پھر تم بھی کون ایسے ہو
جو امر ہو، سدا رہو گے تم
کب تلک مجھ کو خط لکھو گے تم
ساتھ کب تک مرے ہنسو گے تم
وقت بھی کیا عجیب شے ہے ناں
اس کو ڈھلنا ہے ڈھل ہی جائے گا
رنگ کیا کیا ہمیں دکھائے گا
تم پریشان بس نہیں ہونا
میں اگر سنگ چل نہیں پاؤں
میں اگر ساتھ رہ نہیں پاؤں
سارے الزام میرے سر لکھنا
میری مجبوریاں بھلا دینا
تم مجھے صرف بے وفا لکھنا
تم مِری چاہتوں کو چاہو تو
تم مِرے رابطوں کو چاہو تو
بے وفائی کی انتہا لکھنا
اور مجھ کو بہت بُرا لکھنا
مجھ کو لیکن یقین ہے اک دن
جب کبھی تم اُداس بیٹھو گے
جب مِرے دکھ تمہیں ستائیں گے
مدتوں بعد جب مری باتیں
تم کسی اور کو سناؤ گے
اور کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے
آخری بات یہ کہو گے تم
وقت بھی کیا عجیب شے ہے ناں
ہونٹ دھیرے سے کپکپائیں گے
پھر پُر اسرار سی ہنسی آ کر
ایسے ہونٹوں پہ بیٹھ جائے گی
اک نمی وقت کی بَلی چڑھ کے
یونہی آنکھوں میں پھیل جائے گی
وقت بھی کیا عجیب شے ہے ناں

زین شکیل



dukh aasaan hua : poet zain shakeel

دکھ آسان ہوا

دکھ آسان ہوا من موہن
دکھ آسان ہوا۔۔۔
سُکھ کی پِیڑ سہی نہ جاوے
ہر ہر سانس وبال
خون رِسے زخمی خوابوں سے
رو رو اکھیاں لال
جیون سُکھ کا راگ الاپے
بے سُر اور بے تال
اک مسکان کے بدلے پاویں
سو سو رنج ملال
اِس پر تیری یادیں ہم سے
سو سو کریں سوال
چاہ، پریم کے ہر سودے میں بھی نقصان ہوا من موہن
دکھ آسان ہوا ہم کو
اب دکھ آسان ہوا۔۔

زین شکیل


ehd e narasayi main : poet zain shakeel

عہدِ نارسائی میں

عہدِ نارسائی میں، خوابِ زندگی لے کر
دور تک بھٹکتے تھے
جانتے تو تم بھی تھے
راکھ راکھ ہو کر بھی، خاک خاک ہو کر بھی
ہاتھ کچھ نہیں آتا
خواب کی مسافت ہے، ہاتھ خالی رہتے ہیں
مانتے تو تم بھی تھے
اور باوجود اس کے نیند کو لٹا کر بھی
چین کو گنوا کر بھی
ہر شبِ عبادت میں، زار زار اکھیوں کے
اشک رکھ ہتھیلی میں
ہچکیوں کے پھندے میں، میرا نام لے لے کر
مجھ کو اپنے مولا سے
مانگتے تو تم بھی تھے
عشق کے عقیدے میں، فہم کیا؟ فراست کیا؟
کارِ عقل کیا معنی؟
عشق کے مخالف گر لاکھ ہی دلیلیں ہوں
جس قدر حوالے ہوں، مستند نہیں ہوتے
مانتے تو تم بھی تھے
اور ساری دنیا سے، پھر چھڑا کے دامن کو
میری ذات میں آ کر، خود کو سونپ دینے کا
سوچتے تو تم بھی تھے!
اب کی بات چھوڑو تم
اب میں کچھ نہیں کہتا
کچھ نہیں کہوں گا میں
اب فقط سہوں گا میں
اب تو چپ رہوں گا میں
کچھ گلہ نہیں تم سے
یاد بس دلایا ہے
اس طرح سے ہوتا تھا
عہدِ نارسائی میں
اب میں کچھ نہیں کہتا

زین شکیل




Allah jan : poet zain shakeel

!اللہ جان

پھرتے ہیں دیوانے لے کر لب پر یہی سوال
اللہ جان! محبت بھیجیں! اس نگری میں کال
اللہ جان! یہ کیسی نگری، ہر سُو درد ہوائیں
رگ رگ اندر شور مچاویں، دل کا درد بڑھائیں
اللہ جان! دریدہ سوچیں لینے دیں نہ چین
بے چینی کی میخیں گڑ گئیں سانسوں کے مابین
اللہ جان !ہمارا پریتم مدت سے مہجور
اکھیاں ترسیں دیکھن کو پر سانول ہم سے دور
اللہ جان! مصیبت بھاری جندڑی ہے کمزور
اک لاوا بے چینی کا ، اک کرے اداسی شور
اللہ جان! زمانے گزرے آنکھیں بھی بے نور
اکھیوں میں ہے آبِ نداست ہم جو آپ سے دور
اللہ جان !یہاں ہر جانب جھوٹوں کے ہیں جال
صادق، سُچّے لب تھے جن پر چُپ کا پڑ گیا تال
اللہ جان! بکھیریں اپنی رحمت کےسب رنگ
قلبِ آلودہ سے اترے اب دنیا کا زنگ
اللہ جان ! ہوئے ہم عاجز اکھیاں زار و زار
آپ کے بن ہم بے حالوں کی سنے گا کون پکار
اللہ جان! جہانوں اندر آپ کا اونچا نام
اب اپنے محبوبؐ کے صدقے بھیجیں سکھ پیغام
روح تلک میں پھیلی نفرت ،جندڑی ہوئی وبال
!اللہ جان! محبت بھیجیں! اس نگری میں کال۔۔۔

زین شکیل


wo thi kon : poet zain shakeel

وہ تھی کون اک
ملکہءِ عالیہ، 
دل محل میں سجے تخت پر جو کہ 
مرجان، یاقوت، موتی، زمرّد، عقیقِ یمن سے جڑے تخت سے بھی حسیں تھا
وہ مسند نشیں تھی۔۔۔۔۔
وہ پہنے ہوئے پریم کا تاج سر پر
لبوں سے لٹاتی رہی تھی جواہر محبت کے احساس میں جو بندھے تھے
وہ تھی کون ایسی 
کہ جس کی نگاہوں کا منتر بدن توڑ دیتا تھا
وہ جس کے گالوں کا بس سانولا پن ہی کافی تھا محشر اٹھانے کی خاطر
وہ تھی کون جس کی ہر اک بات
میٹھی تھی، لہجہ بھی شیرینیوں سے بھرا تھا
وہ دل کش وہ دل سوز اور دل گدازی کی حد سے سوا تھی
وہ تھی کون ایسی کہ 
اب جو نہیں ہے تو لگتا ہے کچھ بھی نہیں ہے
یہاں بھی، وہاں بھی، کہیں بھی مکاں میں
کہیں لامکان میں اگر ہے بھی کچھ تو 
وہ فہم و فراست، وہ وجدان کی حد سے بس ماورا ہے
سو اس سے شروع تھا سبھی کچھ 
سبھی کچھ وہیں کا وہیں آ گیا ہے
وہ تھی کون آغاز تھی 
جو کہ انجام ہے اب
وہ تھی کون جس کے لیے لفظ شرمندہ شرمندہ سے ہیں ابھی
جو کبھی بھی نہیں تھے 
مگر اب تو آبِ نداست بہانا بھی بے سُود ہے
وہ جو تھی ملکہِ عالیہ
دل محل کی مکیں
اور اکلوتی وارث،
کہیں بھی نہیں ہے!!
مگر دل محل بھی تو اب اک کھنڈر میں ہی تبدیل سا ہو چکا ہے
وہ جو بھی تھی بس اس کے ہونے سے میں بادشاہ تھا 
اور احساس و جذبات کی سلطنت پر حکومت چلاتا رہا تھا
میں اس کی محبت کے سر سبز باغات، 
اس کی سبھی کائناتوں کا بھی اور سبھی موسموں کا 
بس اکلوتا میں بادشاہ تھا۔۔ 
مگر اب نہیں ہوں ،،، 
نہیں ہوں۔۔۔
میں کچھ بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زین شکیل


wo kon chup tha : poet zain shakeel

وہ کون چپ تھا؟

وہ کون چپ تھا؟
کہ جس کی آنکھیں جو بول اٹھتیں،
تو پھر جہاں کے سکوت سارے ہی ٹوٹ جاتے!
وہ کون ایسا گلِ صِفَت تھا؟
سبک خرامی تھی ختم جس پر
وہ ہولے ہولے سے اپنے نازک قدم جو رکھتا
تو راہگزر بھی مہک سی اٹھتی
وہ چاہتوں کی ردائیں اوڑھے جہاں ٹھہرتا
تو گھر بناتا محبتوں کے
جو گر نہ پاتے
نہ ٹوٹ سکتے تھے اس زمانے کی افراتفری کے موسموں میں
مگر زمانے گزر گئے ہیں
یہ کون چپ ہے؟
کہ جس کی چپ سے وجود گم ہے
اذیتوں میں
کوئی تو اس کو بتا کے آئے
کوئی تو اس کو پیام دے ناں
کوئی کہے ناں!
کوئی تو پوچھے!!!
وہ جس کے ہونے سے زندگی تھی
کہاں پہ گم ہے؟؟؟
یہاں پہ ہر سُو اداسیوں کا ہجوم کیوں ہے؟
فقط دکھوں کی لپیٹ کیوں ہے؟
زمیں فسادی بنی ہوئی ہے!
یہ آسماں بھی تو چڑچڑا سا ہوا ہے کیونکر؟
کوئی تو جا کر کہے ناں اس سے
نظر اٹھائے...
سکوت توڑے
وہ جو بھی جیسا بھی ہے وہ بولے
وہ کون چپ تھا؟ 
جو اپنی آنکھوں سے بے تحاشہ ہی بولتا تھا!
یہ کون چپ ہے؟ 
کہ جس کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب ہیں بس

زین شکیل


tu mera sanwal dhol piya : poet zain shakeel

”تُو میرا سانول ڈھول پیا“

تری یاد میں کاٹوں رین پیا
گئی نیند، گیا سکھ چین پیا
تری ایک جھلک تک لینے کو
مرے ترس گئے دو نین پیا
میں خواب نگر کے پار گئی
اک بار نہیں ہر بار گئی
میں رو رو جیون ہار گئی
مجھے تیری جدائی مار گئی
ہر سمت خموشی طاری ہے
اور ہجر بھی ہر سو جاری ہے
ہر رات ترے بن بھاری ہے
اب جندڑی تجھ پر واری ہے
مجھے درد ملے انمول پیا
میں ہستی بیٹھی رول پیا
کبھی میرے دکھ سکھ پھول پیا
”تُو میرا سانول ڈھول پیا“

زین شکیل

"tu mera sanwal dhol piya"

teri yaad main kaaton rain piya
gayi neend, gya sukh chain piya
teri aik jhalak tak lene ko
mere taras gaye do nain piya
main khwaab nagar k paar gayi
ik baar nahi har baar gayi
main ro ro jeevan haar gayi
muje teri judayi maar gayi
har simt khamoshi taari hai
aor hijr bhi har soo jari hai
har raat tere bin bhari hai
ab jindri tujh per vaari hai
muje dard milay anmol piya
main hasti bethi roll piya
kabhi mere dukh sukh phol piya
tu mera sanwal dhol piya

Zain Shakeel

******************


milo mujh se part 1 : poet zain shakeel

ملو مجھ سے
کہ ملنا ہے مجھے تم سے
کسی شاداب نگری کےکسی برباد خطے کے
بڑے ویران کونے میں
کسی بے چین لمحے میں
بڑے بیتاب سینے سے 
لگانا ہے تمہیں میں نے
جہاں پر ہجر کے موسم بھی اپنا رخ بدلتے ہوں
جہاں پر آرزوؤں کا کبھی نہ خون ہو پائے
جہاں تم سے بچھڑنے کا کوئی بھی راستہ نہ ہو
جہاں پر خواب تعبیریں بھی اپنے ساتھ لاتے ہوں
جہاں پر آنکھ کھلتی ہو تو میرے سامنے تم ہو
جہاں پر نیند بھی مجھ کو تمہارے ساتھ آتی ہو
تمہارے ساتھ ہونے سے خزاں بھی کھلکھلا اُٹھے
فضا بھی مسکرا اٹھے،
جہاں نہ بھوک اور افلاس سے بچے بلکتے ہوں
جہاں سر کی ردا لاچار کا ماتم نہ کرتی ہو
جہاں نہ شہر جلتے ہوں
جہاں نہ بے سروپا آفتوں سے لوگ مرتے ہوں
جہاں پر دوسروں کے خون سے نہ پیاس بجھتی ہو
جہاں پر صرف بے پایاں محبت کا بسیرہ ہو
جہاں بس نین ملتے ہوں، دلوں کو چین آجائے
جہاں بیٹھے بٹھائے اک حسیں پر پیار آجائے
تو ساری عمر بس اس اک حسیں کے نام ہو جائے
تو سوچو تم!
کسی شاداب نگری کا کوئی برباد سا خطہ
کوئی ویران سا کونہ
سدا آباد ہو جائے
تمہیں سینے لگا کر دل کی بیتابی ٹھہر جائے
یہ کہنا ہے مجھے تم سے
زمانے کے جھمیلوں سے
بچا کر اپنی نظروں کو
چھڑا کر ہاتھ دنیا سے
وہاں اک بار آجاؤ
کہ اب بھی منتظر ہوں میں
جہاں تم سے بچھڑنے کا 
کوئی بھی راستہ نہ ہو
یہی ہر خط میں لکھتا ہوں
ملو مجھ سے
کہ ملنا ہے مجھے تم سے
بڑے بیتاب سینے سے
لگانا ہے تمہیں میں نے
ملو مجھ سے


زین شکیل



milo mujh se part 2 : poet zain shakeel

ملو مجھ سے
کہ مجھ سے اب کوئی ملتا نہیں ویسے
کہ جیسے تم ملے مجھ سے
ملو مجھ سے کہ بے چینی نہیں جاتی
سنائی دینے لگتی ہیں مجھے خاموشیاں ایسے
کہ جیسے دل کی دھڑکن سانس کے ٹکڑوں سے مل کر  
بے سروپا اور اک بے ضابطہ ترتیب سے بس شور کرتی ہو
ملو مجھ سے کہ اب راتیں عجب
 سرگوشیاں کرتی ہیں مجھ سے
 اور کچھ ایسی عجب باتیں سناتی ہیں
جنہیں میں سن تو لیتا ہوں
 مگر سہتے ہوئے کانوں سے اتنا خون رستا ہے
 کہ مقتل گاہ کا منظر سا بن جاتی ہیں آنکھیں بھی
جگر کے پار سے بھی درد کی آواز آتی ہے
تمہیں میں یاد کرتا ہوں
میں سب کچھ بھول کر اک بس تمہیں ہی یاد کرتا ہوں
مگر کب تک، کہاں تک اور پھر کیسے سہوں سب کچھ تمہارے بن
کہوں کس سے؟
ملوں کس سے؟
کہ مجھ سے اب کوئی ملتا نہیں ویسے
کہ جیسے تم ملے اک بار ہی مجھ سے
ملو مجھ سے!

زین شکیل


milo mujh se part 3 : poet zain shakeel

ملو مجھ سے کہ بے ترتیب ہوں ترتیب دے جاؤ!
ملو مجھ سے کہ میرا جسم بھی اب سرد ہے سانسیں رکی ہیں
 آؤ اب جذبات کی حدت سے میری روح میں
 اک روح کو تحلیل کر دو اور 
محبت کی اس آمیزش سے میری سانس کو تحریک دے جاؤ!
ملو مجھ سے کہ لکھنا ہے تمہیں میں نے 
خود اپنے دل کے صفحوں پر غزل کی شکل میں یا پھر
 نظم کے اک نرالے انگ میں ایسے
 کہ جس کی بحر بھی تم ہو، تمہی تشبیہ، تمہی ہو استعارہ بھی!
ملو مجھ سے کہ دانستہ تمہی سے روٹھ کر میں نے 
تمہیں اتنا منانا ہے کہ پھرتم روٹھ نہ پاؤ 
کبھی مجھ سے!
یہ بے ترتیبیاں میری 
مجھے اک ناگ کی مانند ڈستی ہیں 
بڑا نقصان کرتی ہیں 
مری رگ رگ میں اتنا زہر بھرتی ہیں 
کہ جس کے درد سے پھر روح کی آ ہ و بکا سونے نہیں دیتی،
میں رونا چاہتا ہوں یہ مجھے رونے نہیں دیتی!
میں بے ترتیب ہوں اتنا کہ بےترتیبیاں میری 
تمہیں آواز دیتی ہیں
 تڑپتی ہیں تمہارا نام لیتی ہیں 
سسکتی ہیں تمہیں واپس بلاتی ہیں 
کہ لوٹ آؤ!
ملو مجھ سے میں بے ترتیب ہوں ترتیب دے جاؤ! 
ملو مجھ سے!


زین شکیل



milo mujh se part 4 : poet zain shakeel

مجھے معلوم ہے مجبور ہو
مہجور ہو
میری حدوں سے دور ہو
یا پھر
کسی بھی کام میں مصروف ہو
تم مل نہیں سکتے 
مگر پھر بھی
گزارش ہے
ملو مجھ سے!


زین شکیل



milo mujh se part 5 : poet zain shakeel


اِسے چاہو تو میری
آخری خواہش سمجھ لو 
پر
ملو مجھ سے

زین شکیل


milo mujh se part 6 : poet zain shakeel

ملو مجھ سے
نگاہوں کے اشاروں سے پرے ہو کر
زمانے کے فشاروں سے پرے ہو کر
گلوں سے اور بہاروں سے پرے ہو کر
کسی بے چین دریا کے کناروں سے پرے ہو کر
ان آنکھوں سے نکلتی آبشاروں سے پرے ہو کر
ہمارے دل میں پھیلے اک گھنے غم کے سیاہ جنگل میں بکھری ،درد کے پیڑوں کی شاخوں 
اور رستوں میں کہیں بکھری پڑی کچھ سخت جھاڑوں سے پرے ہو کر، ملو مجھ سے
ملو مجھ سے
خساروں سے پرے ہو کر
اکیلے تم ، اکیلا میں
ملو مجھ سے
 ہزاروں سے پرے ہو کر
زمیں کی وسعتیں محدود ہیں
پھر بھی جدائی کیوں نگاہیں پھاڑ کر تکنے لگی ہے راہگزر ایسے
کہ جیسے آسمانوں میں بھی اک پھیلی ہوئی ایسی جدائی ہے
مسلسل جو ہمیں باور کراتی ہے کہ جیسے لامکاں کی وسعتوں میں بھی نہیں ممکن تمہیں ملنا
تمہیں ملنے کی خاطر آسرے کی سخت حاجت ہے
مگر میں تم سے کہتا ہوں
کوئی بھی آسرا لے کر 
کسی محتاج لمحے کی کسی ٹوٹی ہوئی ساعت میں اب
تم سے نہیں ملنا۔
مگر تم جس قدر چاہو ، جہاں چاہو
ملو مجھ سے
مگر دیکھو،
سہاروں سے پرے ہو کر

زین شکیل



milo mujh se part 7 : poet zain shakeel



ملو مجھ سے،

کہ مدت سے نہیں دیکھا تمہیں میں نے!
تمہیں سوچا بہت ہے پر تمہارا سامنا کرنے کی حاجت ہے
تمہارے سامنے اک بار پھر خاموش رہ کر چیخنا ہےاور تمہیں آنکھوں ہی آنکھوں میں
یہی اک بات کہنی ہے
مجھے اب بھی محبت ہے
مگر پہلے سے زیادہ ہے
ملو مجھ سے !
مجھے اک بار پھر سے پوچھنا ہے 
کون سے انداز میں بالوں کوکنگھی سے بناؤں جس سے میں اچھا لگوں تم کو
مجھے اک بار پھر سے پوچھنا ہے
 کیا تمہیں میں یاد آتا ہوں؟
مجھے یہ پوچھنا ہے کیا ہوا اُس ڈائری کا جس میں میرے شعر لکھے تھے 
تمہیں سب یاد تھے ناں !
کیا تمہیں وہ یاد ہیں اب بھی؟
تمہیں مل کر مجھے خود آپ اپنی ذات سے ملنا ہے 
خود سے پھر تمہارے بارے میں 
میں نے ضروری بات کرنی ہے
تمہارے نام میں نے پھر سے اپنی ذات کرنی ہے
ملو مجھ سے،
کہ مدت سے نہیں دیکھا تمہیں میں نے!

زین شکیل


kaho na yaad kartay ho : poet zain shakeel

کہو نا یاد کرتے ہو!
انا کے دیوتا ! 
اچھا چلو مرضی تمہاری
 پر
میں اتنا جانتا تو ہوں
کہ جب بھی شام ڈھلتی ہے 
تو لمبی رات کی کجلائی آنکھوں میں
ستارے جھلملاتے ہیں
تمہیں میں اس گھڑی پھر چاند کو تکتے ہوئے
شدت سے اتنا یاد آتا ہوں کہ جتنی شدتوں سے
تم خموشی کی ردا کو اوڑھ کر یہ کہہ نہیں پاتے
کہ ہاں! تم یاد آتے ہو!
چلو مانا انائیں اہم ہوتی ہیں 
مگر ان سے کہیں زیادہ محبت اہم ہوتی ہے
چلو مانا تمہیں عادت نہیں اظہار کی،
اقرار کی، 
اور تم بھی محسن نقوی کی وہ نظم تھی نا جو 
چلو چھوڑو" کی بس ان چند سطروں سے متاثر ہو 
کہ جو کچھ اس طرح سے تھیں
چلو چھوڑو! محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا"
مگر اِس نظم میں پنہاں 
جو ہے اک بے بسی کی اوٹ میں ٹوٹا، 
تھکا ہارا بڑا ہی مضطرب اور طنزیہ لہجہ
اسے تم نے کبھی محسوس کرنے کی سعی کی
نا مرے جذباب کو سمجھا
مجھے معلوم ہے تم کو محبت ہے مگر تم کہہ نہیں سکتے
انا کے دیوتا! 
میں جانتا ہوں ان کہی باتیں
مگر چھوٹی سی یہ خواہش 
مجھے تڑپائے رکھتی ہے کہ تم بھی تو
کبھی اپنی انا کا بت گراؤ
وہ سبھی باتیں ذرا شیریں سے لہجے میں سناؤ
وہ سبھی باتیں جنھیں تم کہہ نہیں پائے
جنھیں تم کہہ نہیں سکتے
مجھے معلوم ہے کہ میں تمہیں بے چینیوں کی شدتوں میں 
حد سے زیادہ یاد آتا ہوں
مگر تم لب ہلاؤ تو
مری ان رتجگوں کی مٹھیوں میں قید آنکھوں میں 
تم اپنی ڈال کر آنکھیں ذرا اک بار دیکھو تو!!
کہو کس واسطے جذبوں کا اپنے خون کرتے ہو
بھلا کیوں روندتے ہو پاؤں میں ایسے گُلِ خوابِ محبت کو
تمہیں ملتا ہی کیا ہے درد سے مجھ کو سدا منسوب رکھنے میں
انا کو اوڑھ کر تم کس لیے یہ خواہشیں اور حسرتیں برباد کرتے ہو
کہو نا یاد کرتے ہو


زین شکیل